Lupgar Pir Pass (5190)  Part 1

by Paras Ali

Lupgar Pir Pass lies in the Lupgar Mountains of the Central Karakoram in the Gojal region of Pakistan’s Northern Areas (now Gilgit-Baltistan) and links the Chapursan and Lupgar Valleys

One of my Friends went to Lupgar Pir Pass (5190m) Expedition… The way she Narrated the whole story is so interesting that i couldn’t stop myself sharing it on my blog . I’m sharing it it with her permission. This is Part1 and will be sharing part 2 as well. So stay tuned guys 😉

Lupgar Pir Pass 5190 ….. Dear Friend Paras Ali is giving her reviews about this Expedition

#LupgarLaDiaries

Part 1

“اب کیا ہوگا؟ “

ہماری مہم کا سلوگن ہو سکتا ہے

جس تعداد میں ہمارے ساتھ واقعات ہوتے رہے ڈاکٹر فرحانا تو کہتی تھیں

ساڈے نال کوئی اک پنوتی ھیگا جے۔

اس بیان پر محسن رضا نجاے کیوں پرسنل سے ہو جاتے تھے

سفر کی شروعات ہی محسن رضا اور عمر منج کی دیر سے آمد کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہو گئی۔ محسن کے ذمہ کچن کے انتظامات تھے کھانے کی اشیاء سلنڈر اور ٹینٹ وغیرہ ۔

چلنجی ایک خواب تھا ہم سب اس خواب کے سراب میں نکل پڑے تھے ہم نے مزید کچھ سوچنا ٹھیک نہیں سمجھا، بات ہی کچھ ایسی تھی۔ لگن سچی تھی۔ کچھ

اور سوچتے تو یہ چلنجی کے ساتھ دھوکہ ہوتا۔

بجے کے قریب ہم گروپ فوٹو کھنچوا کر اسلام آباد سے روانہ ہوئے۔شدید حبس  اور گرمی کی وجہ سے ہم نے ائر کنڈیشنڈ کوسٹر لی تھی۔ ڈرائیور سے درخواست کی ، صاحب اے سی نئیں ہے۔ ہم اتنے ترسے ہوئے کہ جلدی سے سب شیشے بھی اوپر چڑھا چکے تھے، یہ صدمہ کافی گہرا تھا اسلام آباد کے حبس سے ڈر نہیں لگتا صاحب ، چلاس کی دوپہر سے لگتا ہے۔

جو کہ ہمارے نصیب میں لکھی جا چکی تھی۔ اس کا سہرا محسن اور عمر کو جاتا ہے ۔ دو تین بار کہنے پر ڈرائیور نے فرمایا اے سی ہے لیکن چلیگا نہیں۔

علی نے ذرا دھمکایا اور آخر کار ایک کھٹارا اے سی چل پڑا۔ ویسے رات کے اس پہر باہر بھی موسم بہتر ہی تھا لیکن پیسے تو ہم نے اے سی والی گاڑی کے دیئے تھے تو ہم سے یہ ناانصافی برداشت کیسے ہوتی بھلا۔

سارے دن کی تھکاوٹ اور رات کا سفر۔ ہم نیند کی وادی میں کھو گئے

آنکھ کھلی تو ہم کہیں ناران کے آس پاس تھے ۔ رک کر ناشتہ کیا گیا۔ معمولی سی کسی بات پر محسن کھانے کی میز سے اٹھ کر نامعلوم مقام چلے گئے۔واضح رہے کہ واشروم دوسری طرف تھے۔

کافی دیر بعد واپسی ہوئی تو ہمارا سفر شروع ہوا۔

اب گاڑی کی رفتار قابل اعتراض حد تک سلو ہو گئی بابوسر کی چڑھائیوں پر ہماری گاڑی رینگ رہی تھی۔ ہمیں تشویش تب ہوئی جب باقی گاڑیاں اور کوسٹرز ہمیں منہ چڑاتی آگے نکل گئیں۔

ڈرائیور نے فرمایا صاحب گاڑی تھوڑی آواز کر رہی ہے۔ وہ تھوڑی ہرگز نہیں تھی لیکن ہم کیا کر سکتے تھے۔ بس گانوں سے لطف اندوز ہوتے ، محبوب کی جگہ چلنجی کا نام لیتے جا رہے تھے۔

بابوسر کے خوبصورت موسم میں ہم گاڑی کی گڑگڑاہٹ کو فراموش کر گئے۔ جبکہ ڈرائیور رک رک کر گاڑی کے مزاج کو ٹھنڈا کر رہا تھا۔

چلاس پہنچ کر شدید گرمی نے ویلکم کیا لیکن اس جگہ سے ہماری کچھ خوشگوار یادیں جڑی تھیں (رش لیک سے واپسی پر وہیں لنچ کیا تھا) سو ہم اپنے رش لیک کے سب دوستوں کو یاد کرتے ہوئے وہاں سے چل پڑے۔

اسامہ کی یاد شائد اتنی شدید تھی کہ اس نے گلگت میں مقیم امادی اور اظہار سے ملنے کی فرمائش کر دی جو کہ بڑی مشکل سے، لیکن پوری ہو گئ۔ اب ڈرائیور نے ہمیں وہ خبر دی جو ہمیں پہلے ہی معلوم تھی۔ گاڑی خراب ہے آپ کو دوسری گاڑی کر دیتا ہوں۔

لیکن اتنا سامان جو لوڈڈ ہے اسکو اتارنا اور دوسری گاڑی میں چڑھانا ایک بڑا مرحلہ ہوتا۔ ہنزہ پہنچ کر علی اور محسن بقیہ اشیاء خوردونوش لینے چل دیئے شام ہو چکی تھی ۔ ہم تھک چکے تھے۔ اس لئے اسی گاڑی کے ساتھ سمجھوتا کرلیا اور کہا کہ بھائی چلتی کا نام گاڑی، جہاں تک چل رہی ہے چلاؤ۔ اس نے رات کے آٹھ بجے سوست پہنچایا۔ یہ رات پلین کے مطابق ہمیں بابا غنڈی میں کیمپ کرنا تھا۔ لیکن اب ہمت جواب دے چکی تھی۔ دو دو کر کے سارے لڑکے ہوٹل ڈھونڈنے نکل پڑے۔ ایک سستا اور ٹکائو ہوٹل مل گیا۔ تین کمرے لئے۔ نہا دھو کے ہم لمبے پڑ گئے ۔ مرد حضرات مرغی لے آئے اور کچن میں خود ہی کڑھائی تیار کر لی۔

ہوٹل کے ڈائیننگ ہال میں کھانا پیش کیا گیا۔ کڑھائی لذیذ تھی ۔ ابھی کھانا شروع ہی ہوا تھا کہ محسن روٹھ کر میز سے اٹھ کر چلے گئے۔ اس بار اسامہ نے کچھ مزاق کیا تھا۔ پھر یہ معمول بن گیا۔

کچھ دیر لان میں بیٹھ کر ہم نے ستارے دیکھے۔ ثمرین کچھ لینےکمرے میں گئی اور پھر واپس نہیں آئی۔ تھکاوٹ ہی اتنی تھی۔ اور اس سوچ نے کہ یہ کمرے میں ہماری آخری رات ہے ہمیں جلدی سونے پر مجبور کر دیا۔

صبح کی مخصوص ہلچل شروع ہو چکی تھی۔ دھوپ تیز تھی۔ سامان کھول کر بار بار چیک ہو رہا تھا کہین کوئی اضافی چیز ہوتی تو نکال باہر کر دیتے ۔ کچھ دیر بعد پھر اٹھا کر رکسیک کی کسی جیب میں ٹھونس دیتے۔

دس کلو اٹھانے کی اجازت تھی۔ ڈاکٹر فرحانہ نے تو اپنی چھوٹی موٹی چیزوں کے ریپر بھی اتار پھینکے کہ ان میں بھی شائد کوئی وزن ہو۔ ثمرین کے مشہور زمانہ جوتے بنوانے کے لئے قاسم کو موچی کے پاس بھیجا گیا۔ قاسم ہمارا نیا دوست کراچی سے تعلق رکھتا ہے اور حیرت انگیز طور پر ہمارے دوست ابوبکر سے مشابہت رکھتا ہے اس لئے ہم اس سے پہلے دن سے ہی گھل مل گئے۔

اسی افراتفری میں اسامہ نمودار ہوا اسکی جیکٹ کل والی کوسٹر میں رہ گئی تھی۔ ناکافی گرم کپڑے ہونے کی وجہ سے وہ پہلے ہی ہماری باتیں سن چکا تھا۔ اور اب جیکٹ بھی گئی۔ ڈرائیور کو کال کی تو معلوم ہوا گاڑی گلگت کی ورکشاپ میں ھے۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔

علی گاڑی لینے جا چکے تھے تیاری آخری مراحل میں تھی انڈے پیک ہو رہے تھے۔

اسلام آباد سے چلتے ہوئے میرے پیروں میں ایک پیلی سی بوری رکھی تھی مجھے اسکی اتنی فکر تھی کہ اسکو میرا پائوں نہ لگ جائے آٹا ہے گناہ ملے گا کبھی نیند میں بھی پیر لگ جاتا تو اللہ سے معافی تلافی۔ آخر میں معلوم ہوا کہ یہ بھوسہ ہے۔ اس میں انڈے رکھے جائینگے۔ اور علی نے یہ میرے پیروں میں رکھوایا کہ میں اس پر آرام سے پیر لمبے کر کے رکھ سکوں اور میں بلاوجہ گناہگار محسوس کرتی رہی۔

اب دو بڑے سے پلاسٹک کے کارٹون میں بھوسہ بھرا گیا اور ان میں انڈے رکھے گئے۔ 120 انڈے ۔ 9 میمبر

Ps. Hamara original plan chilinji tha…

 

Thank You Paras Ali for sharing all details.. loved the way you explain ..Mashallah!!!!

Stay Tuned for Part 2 🙂

You can visit the page on FB for more interesting stories ..Madventurers

You may also like...

2 Comments

  1. […] Part one is available at  Lupgar Pir Pass (5190m) Expedition(Part 1) […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

en_USEnglish