Expedition Lugar Pir Pass (5190)

By: Paras Ali

Here is the “Lupgar Pir Pass (5190) Expedition  (Part 2)”

 

#lupgarladiaries

(Part 2)

پارٹ  2

ناشتے سے تقریباً فارغ ہوئے تو اسامہ آگیا گاڑی مل گئی۔ اسامہ کے بقول کافی لوگوں سے ریٹس معلوم کیے گئے لیکن ان

صاحب سے ریٹ لینے سے پہلے ہم دل دے بیٹھے۔ اور فیصلہ ہو چکا۔

ہالیووڈ کے ہیرو جیسے ہمارے ڈرائیور اداور بھائی۔ ہم باہر کو بھاگے ۔صاف ستھری استری شدہ ڈریس پینٹ اور شرٹ میں ملبوس۔ جیسے ابھی دفتر سے اٹھ کر آئے ہوں، یا اپنے ولیمے سے۔

محسن قاسم زین اور عمر سامان لوڈ کرتے رہے تب تک علی اور اسامہ نے ناشتہ کیا۔ تین خواتین تین کہانیاں صبح سے مکمل تیار ادھر سے اُدھر ٹہل ٹہل کر بیزار۔ اب تو سن بلاک کی تین گھنٹے کی مدّت بھی ختم ہونے کو تھی۔

سفر شروع ہوا ابھی سوست کے اختتام کا بیرئیر ہی کراس کیا تھا کہ گاڑی ایک کچے راستے پر مڑ گئی۔ اور خنجراب سے آتی رہی سہی ٹھنڈی ہوا بھی رک گئی۔ اب پتھریلہ راستہ، بنجر پہاڑ ، تیز دھوپ اور گرم ہوا۔ اگلو طرز کے ڈبے میں اینٹری کروانی تھی تاکہ ہم کہیں لاپتہ ہو جائیں تو ثبوت موجود ہو ۔ بندہ نہ بندے دی ذات۔ بندہ ڈھونڈ کر اینٹری کروائی۔ ہمیں اپنی جان پیاری تھی ۔ اب ہم چپرسن کی طرف رواں دواں تھے۔ دونوں طرف احرام مصر طرز کا لینڈسکیپ۔ لیکن سوچ چلنجی کی۔اور اُس سوچ سے آتی ٹھنڈک۔ ہائے!

ایک ٹھنڈاٹھار چشمے سے سب نے پانی پیا اور بھر بھی لیا۔ چھوٹے چھوٹے گائوں آنا شروع ہو گئے۔ ہرے بھرے لہلہاتے کھیت دیکھ کر ہی دل خوش ہو گیا۔ ایک اور چیز جو حیرانکن لگی وہ یہاں کے لڑکے۔

اسٹائلش پینٹ شرٹ بوٹ اور جدید ہیئر اسٹائیل۔ اب سمجھ آیا کہ ہمارے اداور بھائی اسی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔

ایک جگہ گاڑی رک گئی اداور بھائی نے کہا یہ نالہ کراس کرنا ہے تو جذبات میں آ کر ہمارے تمام ممبران گاڑی سے اتر گئے۔ کچھ کو پھوٹوگرافی کرنی تھی کچھ ویسے ہی شغل میں اتر گئے کہ ذرا ٹانگیں سیدھی ہو جائینگی۔

نالہ میں بظاہر کوئی خطرہ نہیں تھا کوسٹر لڑھک بھی جاتی تو کھیت میں جاتی سو میں بیٹھی رہی۔ اب سب نے پوزیشن سنبھال لی۔ اداور بھائی نے کہا کچھ لوگ گاڑی کے پیچھے لٹک جائیں تاکہ وزن رہے ۔ ڈاکٹر فرحانہ لٹک گئیں اور گاڑی چل پڑی ۔ ثمرین کی گاڑی چھوٹ گئی۔ اس نے پیدل ہی کراس کر لیا۔

سب پھر سے گاڑی میں لوڈ ہوئے۔ تو پتہ لگا علی نے وڈیو آن ہی نہیں کی تھی۔ اور ذین کو اپنے بابا پر اتنا بھروسہ تھا کہ اس نے بھی وڈیو نھیں بنائی۔ اسامہ نے پکس لیں تھیں۔ نیز کوئی وڈیو نہ بن سکی۔ افسوس رہا۔

زودخون ، چپرسن کا آخری گاؤں ہے اس سے آگے بابا غنڈی کا مزار ہے۔ وہاں کوئی آبادی نہیں ہے لیکن سارا دن دور دراز علاقعوں سے لوگ زیارت کے لئے آتے ہیں۔

ہم جن صاحب سے رابطہ میں تھے وہ زودخون کے ایک ریسٹ ہاؤس میں موجود ہوتے ہیں سو ہماری گاڑی ایک گیٹ میں داخل ہو گئی۔ اس جگہ کا نام پامیر سرائے تھا۔ بے شمار پیلے پرپل پھولوں نے ہمیں ویلکم کیا۔ اس وقت ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ یہ جگہ ہمیں یوں قید کر لےگی کہ ہم اس کے چنگل سے چاہ کر بھی نہیں نکل پائینگے۔

ایک خوبصورت کاٹیج جس کی فرنٹ کی پوری دیوار شیشہ کی تھی۔ اندر آرامدہ بیٹھک۔ شیشے کے پار حسین منظر۔ جگہ اتنی پرسکون تھی کہ بیٹھنا مشکل تھا۔ سو ہم ذرا لمبے ہو گئے۔

باہر علی آگے کا پلان ترتیب دے رہے تھے اور ہم سب کی نیت تقریباً خراب تھی ۔ مجھے علی کے چہرے سے کچھ پریشانی کا اندازہ ہو گیا تھا۔ لیکن کسے پرواہ تھی دوپہر کا وقت تھا۔ ہم پامیر سرائے کی ممتا کی آغوش میں تھے۔

اور پھر فرشتہ آگیا۔ اس جگہ کے مالک اور مشہور و معروف ٹریکر عالم جان کا بیٹا ، تقریباً 12 سال کا پیارا سا بچہ۔ اس کاٹیج کے پیچھے ہی انکی رہائش ہے۔

ہماری بے حد خاطرداری کی۔ فرشتہ جب آتا کھانا لاتا۔ سادے سفید چاول ،سامنے والے کھیت سے توڑی ہوئی ہری سبزی آلو سمیت۔کھانے کے بعد سبز چائے۔

ہمارے کچھ ممبرز باغی ہوتے نظر آتے تھے کہ چھوڑو چلنجی میں کیا رکھا ہے۔

علی کے مذاکرات ختم ہوئے تو وہ اندر آئے سامان کا وزن ہونا تھا پورٹرز کی تعداد کا فیصلہ کرنے کے لئے۔ طے یہ ہوا تھا کہ شام ہونے کو ہے ہم بابا غنڈی میں کیمپ کرینگے۔ اور اگر کسی ادارے کی طرف سے کوئی اعتراز ہوا بھی تو ہمارے پاس صبح تک کا وقت ہوگا منت سماجت کے لئے۔

پورٹرز صبح وہاں پہنچ جائینگے اور ٹریک شروع ہوگا۔ہمارے پاس اپنے حساب سے مکمل اجازت نامہ موجود تھے۔ سوائے اسامہ کے شناختی کارڈ کے۔

محسن اپنے ساتھ دو چھوٹے ٹینٹ اور ایک بڑا والا میس ٹینٹ لائے تھے ۔ وہ ایک میس ٹینٹ 22 کلو وزن رکھتا تھا۔ اسکا مطلب تھا ایک الگ پورٹر۔ سلینڈر دو تھے اب ہم اضافی سامان کو چھوڑ بھی نہیں سکتے تھے۔ ہمیں چلنجی سے چڑھ کر بروغل میں اترنا تھا اور واپسی چترال سے متوقعہ تھی۔

آخر علی کے سمجھانے سے پورٹرز، میس ٹینٹ اٹھانے پر راضی ہو گئے اس میں انکا بھی فائدہ تھا۔ موسم کی خرابی کی صورت میں سب پورٹرز اس میں رات گزار سکتے تھے۔ اب پیچھے رہ گیا ایک سلینڈر۔ جس کو گلے لگا کر محسن نے 15 منٹ الودع کیا۔

ان لوگوں نے تسلی دی کہ کسی بھی گاڑی میں یہ سلنڈر ہم گلگت پہنچا دینگے

باقی تمام سامان گاڑی پر لوڈ ہوا اور ہم بڑی مشکل سے پامیر سرائے کو خیر باد کہ کر ، بابا غنڈی چل پڑے۔

گھپ اندھیرے میں ہم چیک پوسٹ پر رکے ۔ فوجی نے ٹارچ مار کے چیک کیا کہ ہم سب دیسی ہیں۔ علی اینٹری کروانے چلے گئے تو ان کا ساتھ دینے عمر بھی چلے گئے۔

میرے پاس تو شناختی کارڈ ہی نہیں ہے اسامہ نے ایک بڑا تہ شدہ کاغذ نکال کر دکھایا اس میں اسکے کارڈ کی کاپی تھی ہم نے بولا خاموشی سے بیٹھے رہو جب تک کہ فوجی تم سے خود کچھ نہ پوچھے۔ قاسم اور محسن تو ایسے موقعوں پر اتنے خاموش ہوتے تھے جیسے موجود ہی نہ ہوں ۔

اسامہ پکڑ میں آگیا اسکو بھی بلوایا گیا ۔ پھر وہ خواتین جو اکیلی ہیں ڈاکٹر فرحانہ اور ثمرین ، نے کارڈ چیک کروایا۔ اور ہمیں بابا غنڈی جانے کی اجازت مل گئی

 

 

 

 

 

 

 

Part one is available at  Lupgar Pir Pass (5190m) Expedition(Part 1)

 

Stay Tuned for Patt 3 guys 🙂

You may also like...

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

en_USEnglish