Blog

(Part-1)چودہویں کا چاند اور راکا پوشی پر سورج کی پہلی کرن

Rakaposhi

چودہویں کا چاند اور راکاپوشی پر سورج کی پہلی کرن

Rakaposhi

                                                                                                                                                                                                                                                        

بتانے لگی ہوں۔   fictional story  ۔۔۔ارے نہیں! آ پ لوگ یہ مت سمجھیں کے میں

کہاں نمرہ احمد اور کہاں میں

ہم نے اپنی ان گنہگار آ نکھوں سے یہ حسین ترین منظر دیکھا تھا۔ اور بس وقت کچھ دیر کے لیے تھم گیا تھا۔ ویسے میرے جیسے لوگوں کے لیے ایسا موقع کبھی کبھی آ تا ہے یا پھر شاید ایک ہی بار آ تا ہے۔


راکاپوشی کو سامنے سے دیکھنا
(ہنزہ جانے کا پلان)

ہنزہ جانا میری خواہش تھی اور سونے پر سہاگا میرے اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ پروگرام بن گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم خوب ہلہ گلہ کرتے ہیں۔ اور سفر میں تو ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہم نے بھی کیا اور کیسے کیا، اس وقت ہر کسی کے کیا جذبات تھے، وہ سوچ کر ہم آج بھی خوب شغل لگاتے ہیں۔

ہم نے اپنے جاننے والے ٹور آپریٹر سے رابطہ کیا، اس بیچارے نے مروت میں ہمیں کافی مناسب پیکج بتایا۔ (پر ایک غلطی ہوی اس سے ۔۔۔۔۔ کوسٹر کو صحیح نہیں لا سکا۔ کیونکہ کچھ راستوں پر مہران گاڑی ہمیں ٹا ٹا باے باے کر کے گئیں تھیں) پھر آخر وہ دن بھی آگیا اور ہم آخر کار ایک جگہ اکٹھے ہوے۔ مزے کی بات یہ کہ ہم جوش میں وقت پر تیار تھے پر جی ہماری فراری(کوسٹر) لیٹ تھی۔ چلو کوئی بات نہیں۔

 لاہور سے ناران

ناران
لاہور سے نارن

ہمارا پہلا پڑاؤ ناران میں تھا۔ لاہور سے نکلنے کے بعد ہم کافی جگہ رکے۔ کوئی نہ کوئی وجہ بن جاتی۔ پر پھر میرے بھائی نے سختی سے سب  کو کہا کہ ہم اب کہیں نہیں رکے گیں۔

  میں کیا۔ جی جی! وہی ٹھنڈے پانی میں پاؤں ڈال کر بیٹھے تھے۔ (kewai)ناشتا ہم نے کیوائی

یقین مانیے! اگر اپ پہلی بار نارن جا رہیے ہیں تو جب آپ بالاکوٹ اے اگے نکلتے ہیں تو بس! قدرت کے حسین نظارے دیکھ کر مسلسل  اف… واہ۔۔۔کمال۔۔۔سبحان اللہ! جیسے الفاظ ہی بولتے جاتے ہیں۔ میں جب پہلی بار گئی تھی فوراً اتنی تصاویر لینے لگ گئی۔ پر سلمان نے کہا حوصلہ رکھو ابھی تو آگے اور حسین دنیا ہے۔

راستے میں پہلا ایڈونچر ہمارے ساتھ یہ ہوا کے کاغان میں ایک دم طوفانی بارش شروع ہو گئی۔ ہمارے ڈرائیور نے بس روک لی کیونکہ روڈ پر کافی پھسلن تھی۔ اب بس کے ایک طرف پہاڑ اور دوسری طرف کھائی۔ اسی دوران طوفانی آندھی آئی ۔۔۔ اتنی تیز ہوا تھی کہ ہماری بس زور زور سے ہلنے لگی۔ ہم سب نے ڈر کے مارے پہلے کھائی دیکھی پھر پہاڑ کی طرف ک کہیں لینڈ سلائیڈنگ ہی نہ ہو جائے۔ مہرو (بھابھی) نے بوبی (بھائی نام اس کا عبدل باسط ہے) سے ڈر کر کہا ابھی بھی وقت ہے واپس چلتے ییں۔ اور یہ سننا تھا کہ ہمارا ہنس ہنس کر  برا حال۔ مزے کی بات یہ کہ ہماری امی بھی شروع ہو گئیں کہ واپس چلتے ہیں۔

آخر کار ناران پہنچگئے

ہماری فراری کچھ رکتے رکاتے آخر کار ناران پہنچ گئی۔ لو جی! ناران میں ٹریفک جام۔ لگتا تھا پورا پاکستان ہی پہنچا ہوا ناران۔ اسی دوران ہمارے آپریٹر بھائی غایب۔۔ ہمیں شک پڑا کے یقیناً ہوٹل کی بکنگ نہیں کروائی ہوگی۔ آخر کار وہ دور سے نمودار ہوئے اور پھر ہم ہوٹل پہنچے ۔۔۔ اللہ کا شکر کے ہوٹل صاف ستھرا تھا۔ اس رات چاند کی تیرا تاریخ تھی۔ شام ہو چکی تھی پر ہماری نیت ہو رہی تھی ک سیف الملوک پر جایا جائے۔ لیکن افسوس کوئی جیپ والا تیار نہیں ہوا۔ ہم نے بھی زیادہ زور نہ دیا کہ راستہ کافی خراب ہے۔ ویسے اب سوچتے ہیں اللہ نے    آگے زیادہ اچھا انتظام کیا ہوا تھا ہمارے لیے

بقیہ تفصیل آپ اگلی پوسٹ میں پڑھ سکتے ہیں

 

 

 

 

 

You may also like...

1 Comment

  1. […] (Part-1)چودہویں کا چاند اور راکا پوشی پر سورج کی پہلی کرن […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

en_USEnglish