Uncategorized

(Part-2)چودہویں کا چاند اور راکا پوشی پر سورج کی پہلی کرن

سنہری پیک (راکاپوشی)

(Part-2)چودہویں کا چاند اور راکا پوشی پر سورج کی پہلی کرن

ناران تک کے سفر کی تفصیل آپ کو پچھلی پوسٹ میں بتا چکی ہوں۔ چلیے اب آگے کی طرف بڑھتے ہیں

ناران سے بابوسر ٹاپ

ناران میں ہم ایک رات گزار کر صبح ہنزہ جانے کے لیے بلکل تیار تھے۔ دریا کنارے بیٹھ کر ناشتہ کرنے کا بھی اپنا مزہ ہے۔ دریائے کنہار اپنے پورے رعب سے بہہ رہا تھا۔ اگر آپ ناران بازار میں رکے گیں تو آپ وادی کا صحیح مزا نہیں لے سکیں گے۔ بازار میں اب بہت رش اور ہمارے لوگوں کی مہربانی کی وجہ سے کافی گند بھی پڑ گیا ہے۔ پاکستانی قوم کا ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ جہاں ان کی پہنچ آسان ہوتی ہے وہاں کچرے کے ڈھیر لگنا شروع۔ اور ہم بچپن سے سنتے ہیں کہ ‘صفائی نصف ایمان ہے’ ۔ پر اس قوم نے بھی ٹھان لی ہے ک سدھرنا نہیں۔ ناران سے نکل کر بٹا کنڈی کی طرف سفر شروع ہوا۔ اس طرف کی خوبصورتی بھی الگ ہے۔ اپنے آپ میں مگن کر دینے والی۔ جھلکڈ سے گزرتے ہوے دل چاہ رہا تھا بس کچھ دن یہاں رکا جائے۔ لیکن ہم نے تو ہنزہ جانا تھا بھائی ۔۔۔۔۔ لولوسر لیک پر نہیں رکے کہ آگے سفر کافی تھا۔ سوچا واپسی پر دیکھ لیں گے۔ پر وہی بات قدرت نے کچھ اور سوچا ہوتا ہے۔ راستے میں المشہور ‘مون ریسٹورنٹ’ پر کچھ دیر رکے۔ یہ مجھے بعد میں پتہ چلا وہیں سے راستہ آگے دودی پتسر کو جاتا ہے۔ ورنہ میں ضرور اس راستے کو نظر بھر کر دیکھتی۔ چلو کوئی نہیں میں دودی پتسر کو قریب سے دیکھنا ضرور ہے۔ چاچا جی نے جس خوبصورتی سے اس جھیل کا ذکر کیا ہے، دل چاہتا ہے آپ فوراً وہاں پہنچ جائیں۔ اور بابوسر ٹاپ پر ہم پہنچ گئے۔

بابوسر ٹاپ

بابوسر ٹاپ سے دریائے کنہار ایک لکیر کی طرح نظر آتا ہے۔ اس کی بلندی 13700فٹ ہے۔ کچھ لوگوں کو یہاں پر چکر آنا شروع ہو جاتے ہیں, اس لیے جوش کے ساتھ تھوڑا ہوش سے بھی کام لینا چاہیئے۔ گرما گرم پکوڑے اور چائے والے آپ کو خوب لوٹتے ہیں ایسی جگہوں پر اور ہم خوشی سے تیار ہوتے ہیں لٹنے کے لیے۔ اتنا حسین منظر دیکھ کر ویسے ہیی انسان مست ہوتا ہے۔ ہم زیادہ دیر نہیں رک سکے اور کیونکہ پہلے ہی کافی دیر ہو چکی تھی۔

چلاس کی چھبتی گرمی

بابوسر سے نیچے اترے اور چلاس کا انتہائی ناگوار سفر شروع ہوا۔ وہی لاہور والی گرمی, تیز دھوپ اور اوپر سے ہماری فراری کا اے سی جواب دے رہا تھا۔ سب مسافروں کا حشر نشر ہو چکا ہوا تھا۔ اور یہ گرم علاقہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ رات کافی ہو چکی تھی اور سب کا بھوک سے برا حال تھا۔ فیصلہ ہوا کہ راستے میں اب جو بھی ہوٹل آئے گا وہیں روک کر پیٹ پوجا کی جائے۔ اب جیسا بھی آیا ہم نے شور ڈال دیا کہ بس اب روک دو۔ سب بس سے اتر کر واش روم کی طرف بھاگے پر وہاں کا نظارہ دیکھ کر عجیب و غریب شکلیں بنا کر واپس ہوئے لیکن اور کوئی آپشن نہیں تھی۔ اس لیے بس ہمت کر لی۔ ایک بات یاد رکھیں اگر آپ نے پاکستان میں سفر کرنا ہے تو یہاں خوبصورت نظارے تو الحمدللہ بہت ہیں لیکن ‘لیٹرین’ کا کوئی حال نہیں سفر کے دوران۔ اس لیے دل تھوڑا مضبوط رکھیں۔ یہاں میں اپنی بڑی بھابھی کا ذکر ضرور کروں گی۔ وہ رات کے اس وقت گاڑی کے اندر بیٹھ کر اپنی امی کو رو کر کہہ رہی تھیں کہ ‘پتا نہیں امی مجھے یہ لوگ کہاں لے آئے ہیں؟’ مطلب کہ حد ہو گئی۔ ان کو اندازہ ہی نہیں کہ کس دنیا میں جا رہیں ہیں۔

نانگا پربت پر پہلی نظر

 کھانے سے فارغ ہو کر پھر سفر شروع، تھوڑی دیر بعد میرے بھائی کی آواز آئی کہ ‘وہ دیکھو نانگا پربت’ اور میں تو جیسے بچوں کی طرح جوش میں آکر شور ڈالنے لگی۔ جی جی! ڈانٹ پڑ گئی تھی میاں جی سے کہ کیا ہو گیا ہے۔ پر جی ہوش کہاں۔۔۔۔ جس نے چاچا جی کی ‘نانگا پربت’ پڑی ہو وہ ٹک کر کہاں بیٹھ سکتا ہے۔ نانگا پربت اپنے پورے رعب سے وہاں موجود تھا۔ پورے چاند کی روشنی میں چمک رہا تھا۔ سحر انگیز، میری اس خوشی کو وہی جان سکتے ہیں جن کو پہاڑوں سے عشق ہے

اور ہنزہ آگیا

گلگت میں انٹری ہو گئی ۔ راستہ لمبا تھا کافی اور کچھ ہماری فراری کا موڈ ٹھیک نہیں تھا۔ اس راستے میں جب آپ کو مٹیالے پہاڑوں میں راکاپوشی نظر آتا ہے تو بس وہی نظر آتا ہے۔ اوپر چاندنی رات۔ کیا ہی منظر تھا…. سبحان اللہ! پھر آخر کار ہم ہنزہ پہنچ گئے رات کے دو بجے۔۔۔

سنہری پیک (راکاپوشی)

میں اور فصیح (میرا بھائی) بضد تھے کہ سورج طلوع ہوتے دیکھنا ہے ایگلز نیسٹ پر۔ باقی سب تھوڑے سست ہو رہے تھے۔ فصیح نے جب جیپ کرائی تو پھر دو کرانی پڑیں۔ بچے نانی کے پاس سوتے چھوڑ کر ہم بھاگے کہ کہیں صبح ہی نا ہو جائے۔ مطلوبہ جگہ پر ہانپتے ہوئے پہنچے تو وہاں پر کافی دنیا موجود تھی۔ ہاں لیکن پر سکون ماحول تھا۔ کافی دیر بعد راکاپوشی کی چوٹی پر ہلکی سی ایک کرن پڑی۔ وہ ایک ایسا لمحہ تھا جب میں انسان کچھ دیر کے لیے بت بن جاتا ہے۔ جیسے لمحہ تھم جائے۔ منہ سے واہ سبحان اللہ! خود بخود نکلتا ہے۔ دیکھتے دیکھتے پورا راکاپوشی سنہری ہو گیا۔ ایگلز نیسٹ ۔ ہنزہ میں ایک مشہور ٹاپ ہے جہاں سے آپ کو پوری وادی کا ایریل ویو نظر آتا ہے۔ یہاں پر آپ گھنٹوں بیٹھ سکتے ہیں لیکن اگر پیچھے ریسٹ ہاؤس میں آپ کے چنے منے سو نہ رہیں ہوں پھر یہ ممکن ہے۔

چائے پینے کا شوق

اچھا خاصا وقت گزار کر ہم واپس آئے تو خواتین کو چائے پینے کا شوق چڑھا۔ مرد حضرات نے تو صاف جواب دیا اور سونے چلے گئے۔ ہمارے آپریٹر بھائی نے کہا کہ آپ لوگ بے فکر ہو کر جائیں یہاں خواتین کے لیے ماحول پر سکون ہے۔ کوئی آپ کو نہیں گھورے گا لاہور کی طرح۔ اور بلکل صحیح کہا تھا۔ اتنا اچھا لگ رہا تھا وہاں آزادانہ گھوم کر۔ ہمارے لیے حیران کن بات یہ تھی کہ وہاں پر صبح بہت جلد سب بازار کھل جاتے ہیں۔ اور خواتین بھی اپنی دکانیں کھول کر اپنا کام کر رہیں تھیں۔ کسی کوئی پریشانی نہیں تھی کہ ان کو کوئی آکر تنگ کرے گا۔ راکاپوشی کے سامنے گھومتے ہوئے ہم واپس آئے۔ ایک بہت اچھا آپ کو تازہ دم کر دینے والا احساس لے کر سونے کی کوشش کرنے لگے۔
بقیہ تفصیل اگلی پوسٹ میں انشاللہ!

You may also like...

2 Comments

  1. Bravo… very interesting and honest words

  2. Loved the title… Issi waja se mai ne parha b…. V impressive…
    Zalim again dil cha raha Janey ka

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

en_USEnglish